WOW0821240209BLCLJLLLML

My Cart

عنایت اللہ التمش، ایک گمنام لکھاری

عنایت اللہ التمش، ایک گمنام لکھاری

عنایت اللہ پاکستان کے ایک معروف ادیب، صحافی، مدیر، افسانہ نویس، جنگی وقائع نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ آپ نے اپنے یادگار تاریخی ناولوں اور پاک بھارت جنگ 1965ء و پاک بھارت جنگ 1971ء کی داستانوں سے شہرت پائی۔ ماہنامہ حکایت اور سیارہ ڈائجسٹ کے پیچھے انہی کی شب و روز محنت تھی۔ عنایت اللہ نے میم الف، احمد یار خان، وقاص، محبوب عالم، التمش، صابر حسین راجپوت اور دیگر قلمی ناموں سے بھی شاہکار ادب تخلیق کیا۔ عنایت اللہ مرحوم نے 79 سال کی عمر تک بھرپور ادبی تخلیقات اُردو ادب کو دیں جن کی تعداد لگ بھگ...

Sep 14, 2018 0 comments

Read more


علی پور کا ایلی

علی پور کا ایلی

”اللہ تعالٰی سے دوستی ہے کیا“”نہیں“ وہ مسکرائے. ”ابھی تو معمولی جان پہچان ہوئی ہے“”ایک بات پوچھوں“ ایلی نے کہا.”ضرور پوچھئے. جو جی چاہے پوچھئے“”اللہ پاک کیسے ہیں؟“”بہت پیارے ہیں“ انہوں نے جواب دیا. ”بہت ہی پیارے“”وہ تو بہت سخت ہیں“ ایلی نے کہا.حاجی صاحب مسکرائے ”سخت ہوتے تو کیا ہم اس قدر بگڑے ہوئے ہوتے“ایلی کو یہ خیال کبهی نہ آیا تها. اس نے اس زاویے سے اللہ تعالٰی کو کبهی نہ دیکھا تها. اس کے نزدیک اللہ تعالٰی ایک عظیم ہستی تهی. بے نیاز بے پروا !!”ایلی صاحب“ وہ بولے. ”اللہ تعالٰی سے دوستی کر کے دیکھو، اس...

Sep 01, 2018 0 comments

Read more


ڈاکٹر شفیق الرحمن

ڈاکٹر شفیق الرحمن

ڈاکٹر شفیق الرحمن 9 نومبر 1920 کو کلانور (مشرقی پنجاب،بھارت) میں پیدا ہوئے۔ شفیق الرحمن کے والد کا نام عبدالرحمن تھا۔ انہوں نے ایم بی بی ایس (پنجاب) ڈی پی ایچ (اڈنبرا۔ برطانیہ) ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ (لندن) فیلو آف فریشنز اینڈ سرجنز (پاکستان) سے حاصل کیں، 1942 میں پنجاب یونیورسٹی کنگ ایڈورڈ کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔آزادی کے بعد پاکستان آرمی کی طرف سے ایڈنبرا اور لندن یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بھیج دیا گیا ۔ دو برس انگلینڈ میں قیام کے دوران انہوں نے ڈی پی ایچ کے ڈپلومہ کورس مکمل...

Apr 15, 2018 0 comments

Read more


اقتباس "آواز دوست " از مختار مسعود

اقتباس "آواز دوست " از مختار مسعود

اس براعظم میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا، وہ مینار پاکستان ہے۔ یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں لیکن انکے درمیان یہ ذرا سی مسافت تین صدیوں پر محیط ہے، جس میں سکھوں کا گردوارہ، ہندوؤں کا مندر اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ...ہیں۔ میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا کہ مسجد کے مینار نے جھک کر میرے کان میں راز کی ایک بات کہہ دی “جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں۔ جب حق کی جگہ حکایت اور جہاد...

Apr 15, 2018 0 comments

Read more


Added to cart!