FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

بیگمات کے آنسو | خواجہ حسن نظامی

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.400.00 |  Save Rs.-400.00 (Liquid error (sections/product-template.liquid line 159): divided by 0% off)

-19

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS

بیگمات کے آنسو
خواجہ حسن نظامی
جنگ آزادی ۱۸۵۷ کے بعد مغلیہ خاندان کی المناک داستان
.
صاحب طرز ادیب، انشا پرداز اور مورخ حضرت خواجہ حسن نظامی نے 1857 کے انقلاب پر جو کتابیں تحریر فرمائیں، ان میں سے ایک کتاب "بیگمات کے آنسو"  پیش خدمت ہے۔

حضرت خواجہ حسن نظامی (پیدائش: 2/محرم/1295ھ ، 1873ء) کا نام پیدائش کے وقت سید علی حسن نظامی رکھا گیا تھا، بعد میں اختصار اور انکسار کی خاطر وہ اپنے دستخط صرف "حسن نظامی" کرنے لگے۔ خواجہ صاحب کے ننھیال و ددھیال دونوں خواجگان چشت کے خانوادوں سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے جداعلیٰ خواجہ سید بدر الدین اسحق، بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے خلیفہ تھے۔
حضرت خواجہ حسن نظامی کی ظاہری تعلیم اور روحانی تربیت میں بےشمار نامور اساتذہ اور صوفی شیوخ نے حصہ لیا جن میں مولانا اسماعیل کاندھلوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، خواجہ غلام فرید، پیر مہر علی شاہ، شاہ سلیمان پھلواروی، وارث علی شاہ جیسے اکابرین شامل ہیں۔
خواجہ حسن نظامی نے جب ہوش سنبھالا تو ایسے لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے جنہوں نے 1857 کے انقلاب کو دیکھا، بھگتا اور سہا تھا۔ اجاڑ دی گئی دلی کی وہ تمام یادیں بھی ان کے لیے زندہ و تابندہ تھیں جن کے تضاد نے ایک عجیب اور بےمثال منظرنامہ پیدا کر دیا تھا۔
11/مئی 1857 کو دہلی میں جو غدر مچا تھا، اسی کے حالات اور واقعات کو خواجہ حسن نظامی نے اپنی کتاب "بیگمات کے آنسو" میں کہانیوں کی شکل میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب اس قدر مقبول ہوئی کہ اس کے ایک درجن سے زائد ایڈیشن اسی دور میں شائع ہوئے اور بعد میں بھی مختلف اشاعتی اداروں کے ذریعے اشاعت عمل میں آتی رہی۔

خواجہ حسن نظامی ایک مورخ بھی تھے۔ 1857 کے انقلاب پر ان کی گہری نظر تھی۔ انہوں نے اس ضمن میں جو کتابیں : بیگمات کے آنسو، غدر کے اخبار، غدر کے فرمان، بہادر شاہ ظفر کا مقدمہ ، غدر کی صبح و شام، محاصرہ دہلی کے خطوط ۔۔۔ وغیرہ تحریر کی ہیں وہ تاریخ کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔
خواجہ حسن نظامی نے ہر موضوع پر لکھا، شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس پر ان کی کوئی تحریر نہ ملے۔ انہوں نے آپ بیتی بھی لکھی، سفرنامے بھی لکھے، سفرنامہ حجاز مصر و شام، سفرنامہ ہندوستان، سفرنامہ پاکستان، قابل ذکر کتابیں ہیں۔ 'گاندھی نامہ' اور 'یزید نامہ' بھی ان کی اہم کتابوں میں سے ہیں۔
خواجہ حسن نظامی نے انشائیے بھی لکھے۔ جھینگر کا جنازہ، گلاب تمہارا کیکر ہمارا، مرغ کی اذان، مچھر، مکھی، الّو ان کے مشہور انشائیے ہیں۔
خواجہ حسن نظامی کا اسلوب سب سے الگ تھا۔ وہ ایک صاحب طرز انشا پرداز تھے، اپنے اسلوب کے موجد بھی اور خاتم بھی۔ ان کا انتقال 31/جولائی 1955 کو ہوا۔ وہ بستی حضرت نظام الدین نئی دہلی میں مدفون ہیں۔
.
کتاب ہذا بیگمات کے آنسو کے پیش لفظ سے اقتباسات:
اگر مہاراجہ سر کشن پرشاد نظامی صدر اعظم ریاست حیدرآباد کی روایت کو درست مانا جائے تو خواجہ صاحب نے ہندوستانی علوم اور روحانیت کو سیکھنے میں پورے بیس سال لگائے۔ خواجہ صاحب کو لکھنے کی طرف مائل کرنے اور خاص طور پر اخباروں میں مضامین لکھنے کی طرف لے جانے والے وہ غلام نظام الدین صاحب تھے جو دہلی کے ایک ہندو بزرگ تھے اور جو خود خواجہ صاحب کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ انہی کو خواجہ صاحب کو اولین ادبی استاد کہا جا سکتا ہے۔
خواجہ صاحب کے بڑے بھائی حضرت حسن علی شاہ نظامی نے پنجابی زبان کے مشہور ماہر اور شاعر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کے پاس خواجہ صاحب کو ان کا طالب بنوایا تو اس سے ان کا مقصد شاید یہی رہا ہوگا کہ حضرت خواجہ حسن نظامی کی ادبی تربیت حضرت خواجہ غلام فرید کے ذریعے ہو۔ حضرت خواجہ صاحب کے انشائیوں میں پنجابی اور سرائیکی الفاظ کا خوبصورت انتخاب غالباً اسی حوالے سے ہے۔
۔۔۔ ان کتابوں کو مصنف کو ہماری پرانی سرکار دولت مدار، جاتے جاتے یکم جنوری 1946 کے دن پرانے بادشاہ کو اتارنے کے ساتھ اردو کے نئے بادشاہ کو اپنی سلطنت کا آخری خطاب "شمس العلماء" عطا کر کے گئی ہے۔ جادو اور کسے کہیں گے؟!

خواجہ حسن ثانی نظامی
.
.
.
.
Begamat Ke Aansu
Khawaja Hassan Nizami

Recently Viewed Products

بیگمات کے آنسو | خواجہ حسن نظامی

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart