FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

بہادر شاہ ظفر | اسلم پرویز

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.600.00 |  Save Rs.-600.00 (Liquid error (sections/product-template.liquid line 159): divided by 0% off)

0

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS

بہادر شاہ ظفر - مغلیہ سلطنت کا آخری تاجدار
مصنف: اسلم پرویز

نایاب تاریخی تصاویر کے ساتھ

 

:اقتباس

بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری

جنگ آزادی کے اواخر میں، 14 ستمبر 1857ء کو انگریزوں کی فوجیں کچھ شکستہ فصیل والے مقامات سے شہر (دہلی) میں داخل ہو گئیں۔ پانچ دن (14 تا 19 ستمبر) شہر میں مسلسل جنگ ہوتی رہی۔ پہلے دن انگریزی فوجیں کوتوالی اور جامع مسجد تک پہنچ گئیں۔ کچھ مجاہدین نے جامع مسجد میں پناہ لی، کچھ شہر کے کئی حصوں میں مدافعت کرتے رہے۔ انگریزوں کی پیش قدمی کو عارضی طور پر روک دیا گیا اور وہ کشمیری دروازے کی طرف واپس چلے گئے۔
غلام حسین کے مطابق بادشاہ خود لال ڈگّی سوار ہو کر تشریف لائے، تمام افواج اور رعایا جمع ہوئی۔ لال ڈگّی کا یہ علاقہ انگریزوں کی گولیوں کی زد میں تھا اس لیے افسران نے عرض کیا کہ حضور کا یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں ہے، ایسا نہ ہو کہ حضور کو کوئی صدمہ پہنچے۔ بادشاہ ان لوگوں کے کہنے سے قلعے میں واپس چلے آئے۔
17 اور 18 ستمبر کو شہر میں گھمسان کی لڑائی ہوئی، ہر طرف گولیوں کی بارش ہو رہی تھی۔ باغی سپاہیوں میں اب لڑنے کا دم باقی نہیں رہا تھا، چنانچہ 19 ستمبر بروز ہفتہ بادشاہ نے قلعہ چھوڑ دیا اور بیگمات اور شہزادوں کیساتھ سلطان جی چلے گئے۔ غلام حسین خاں اس وقت کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''قلعہ اور شہر کے لوگ ننگے پاؤں، ننگے سر شہر سے نکلے اور جس کا جدھر منہ اٹھا، چل دیا۔ کوئی (علاقہ و درگاہ) قدم شریف کی طرف بھاگا، کوئی پہاڑ گنج چل دیا اور کوئی جے سنگھ پورہ۔ اکثر درگاہ سلطان جی صاحب اور روشن چراغ دہلی درگاہ حضرت قطب الدین کی طرف چلے گئے‘‘۔
کہا جاتا ہے کہ قلعہ چھوڑنے سے قبل بخت خاں نے بہادر شاہ ظفر کو اپنے ساتھ لکھنؤ چلنے کا مشورہ دیا تھا ۔ لیکن بخت خان کے معروضات کے مقابلے میں مرزا الٰہی بخش کا یہ استدلال بہادر شاہ کے لیے زیادہ قابل قبول ثابت ہواکہ''گرمی کا موسم ہے، برسات آ گئی ہے، حضور کی ضعیفی اور ناتوانی کا زمانہ ہے، گھر سے باہر نکل کر مسافرت میں امن ہو تب بھی گھر کا سا آرام میسر آنا محال ہوتا ہے، اور لڑائی بھڑائی کی حالت میں تو زیادہ مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ چھوٹے چھوٹے شہزادوں، شہزادیوں اور پردہ نشین بیگمات کو کہاں لیے پھریں گے۔ لہٰذا میری گزارش یہی کہ آپ باغیوں کے ساتھ تشریف نہ لے جائیں۔ میں انگریزوں سے مل کر تمام معاملات کی صلح صفائی کرادوں گا، آپ پر اور آپ کی اولاد پر ایک حرف نہ آنے دوں گا‘‘۔ مرزا الٰہی بخش کی یہ تقریر سن کر بادشاہ چپ ہو گئے۔
21 ستمبر کو میجر ہڈسن نے ہمایوں کے مقبرے سے اس شرط پر حراست میں لے لیا کہ اگر بادشاہ بخوشی اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیں گے تو ان کی جان بخشی کر دی جائے گی۔ میجر ہڈسن کی جانب سے بادشاہ کی جان بخشی کی پیش کش خود انگریز افسران کے درمیان ایک متنازعہ معاملہ بن گیا۔ چنانچہ 30 اکتوبر کو سانڈرس (کمشنر و ایجنٹ شمال مغربی صوبہ جات) نے میجر ہڈسن سے اس اقدام کی وضاحت چاہی کہ انہوں نے کسی ہدایت کے تحت بادشاہ کی جان بخشی کا وعدہ کیا۔ سانڈرس لکھتا ہے:
''میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ اس معاملے کی وضاحت کریں کہ جب آپ نے بادشاہ کی جان بخشی کی ضمانت دی تو آپ کسی ہدایت کے تحت کام کر رہے تھے اور ساتھ میں یہ بھی تفصیل سے بیان کیجیے کہ وہ کیا حالات تھے جنہوں نے بادشاہ کو اس بات کی طرف راغب کیا کہ وہ خود کو حکومت برطانیہ کے قیدی کی حیثیت سے آپ کے حوالے کر دیں۔‘‘
ہڈسن نے سانڈرس کے اس خط کا تفصیلی جواب دیا۔ ہڈسن کے اسی جواب سے بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کے صحیح حالات پر روشنی پڑتی ہے۔ ہڈسن کا خط اگرچہ طویل ہے لیکن اس کی جزئیات اس اعتبار سے اہم ہیں کہ یہ بہادر شاہ ظفر کے تاریخی المیے سے متعلق بھرپور معلومات بہم پہنچاتی ہیں۔ ہڈسن کا خط اس طرح ہے:
''از طرف لیفٹیننٹ ڈبلیو۔ ایس۔ آر ہڈسن
بہ ملاحظہ جی۔ بی۔ سانڈرس صاحب
کمشنر و ایجنٹ شمال مغربی صوبہ جات دہلی
کیمپ دہلی۔ 28 نومبر 1857ء
جنابِ عالی
۱۔ آپ کے خط نمبر۲، مورخہ ۳۰ اکتوبر کا جواب حاضر ہے۔ میں آپ کو اس امر کی اطلاع دینے کی سعادت حاصل کرتا ہوں کہ بادشاہِ دہلی نے اس (مخصوص) شرط پر خود کو میرے حوالے کیا کہ ایک تو ان کی جان بخشی کردی جائے، اور ان کی شان میں کوئی گستاخانہ سلوک نہ کیا جائے۔ میرے نام سے یہ وعدہ مرزا الٰہی بخش کے ذریعے ایک روز قبل بیگم زینت محل اور ان کے والد سے بھی کیا جا چکا تھا۔ دوبارہ گرفتاری والے دن مولوی رجب علی نے بھی یہی وعدہ (میری طرف سے) بادشاہ سے کیا۔ بعدازاں بادشاہ کے اصرار پر مجھے بھی بہ زبانِ خود ان الفاظ کو دہرانا پڑا۔
۲۔ میں نے یہ اقدام میجر جنرل ولسن کی ہدایت کے مطابق کیا تھا جو اس وقت فوج کی کمان کر رہے تھے۔
۳۔ جن حالات کے تحت بادشاہ نے خود کو میرے سپرد کیا وہ درج ذیل ہیں:
جب مجھے اندازہ ہوا کہ بادشاہ واقعی باغیوں کے ساتھ فرار ہونے کی غرض سے قلعہ خالی کر چکے ہیں، ان کا پیچھا کرنے کے لیے انگیز فوج بھیجنا مشکل تھا، تو میں نے میجر جنرل سے اجازت چاہی کہ بادشاہ کو فرار سے روکنے کی کوئی ترکیب لڑائیں...
۴۔ اس غرض سے میں نے مرزا الٰہی بخش کو طلب کیا ان کی معرفت زینت محل اور ان کے والد سے سلسلۂ گفت شنید شروع کیا...ابتدائی طور پر ان کے مطالبات انتہائی غیر ضروری تھے۔ بیگم (زینت محل) کا اصرار تھا ان کے جواں سال بیٹے بخت کو ولی عہد تسلیم کیا جائے۔ وہ تخت شاہی کی وراثت کی ضمانت مانگ رہی تھیں۔ بادشاہ کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کی پنشن بنا کسی کٹوتی کے جاری کی جائے اور پچھلے پانچ ماہ کی ہنگامۂ مئی سے تاحال، فوراً ادا کی جائے۔ میں نے انتہائی مشکل سے بادشاہ کو باور کرایا کہ وہ اس وقت کن مشکل حالات میں گھرے ہوئے تھے، جن کی رو سے یہ قطعی ناممکن تھا کہ بادشاہ یا ان کے خاندان کا کوئی فرد تخت کو دوبارہ حاصل کر سکے ۔
۵۔ بہت قیل و قال کے بعد جب ان پر یہ حقیقت روشن ہو گئی کہ بادشاہ اور شہزادوں کی نہ صرف آزادی بلکہ زندگی بھی خطرے میں ہے تو میں نے زینت محل کے لڑکے جواں بخت اور ان کے والد احمد قلی خاں کی حفاظت کی ذمے داری لیتے ہوئے بیگم زینت محل کو اپنے مقصد کے لیے راضی کر لیا ۔ ان سے یہ شرط منوا لی گئی کہ وہ بادشاہ کو میرے حوالے کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔ مرزا الٰہی بخش نے بعد ازاں بادشاہ کا تعاقب کر کے قطب کے راستے میں ان کو جا لیا، اور انہیں درگاہ نظام الدین نزد مقبرہ ہمایوں کی جانب لوٹنے پر راضی کر لیا۔ وہاں بادشاہ کی ملاقات زینت محل سے کرائی گئی، دیگر تمام لوگ بھی وہیں پہنچ گئے۔ جس روز دہلی دشمنوں سے خالی ہوا، اس دن شام کو مرزا الٰہی بخش یہ مژدہ لے کر میرے پاس آئے۔ اگلے روز صبح میں نے ان کو دوبارہ بھیجا۔ مولوی رجب علی اور گھڑ سواروں کا ایک مختصر سا دستہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ کچھ توقف کے بعد میں نے اپنے 50 سپاہی بھیجے۔
۶۔ مقبرے کے قریب مولوی رجب علی کی پارٹی پر حملہ ہوا، چار گھوڑ سوار زخمی ہو گئے لیکن یہ ظاہر تھا کہ یہ حملہ بادشاہ کی پارٹی نے نہیں کیا تھا، کچھ جذباتی قسم کے لوگ حملہ آور ہوئے تھے، چنانچہ میں نے بادشاہ کی گرفتاری میں پس و پیش سے کام لینا مناسب نہ سمجھا۔ میں نے رسالدار مان سنگھ کو 18 جوانوں کے ساتھ مولوی رجب علی کے پاس بھیجتے ہوئے حکم دیا کہ اگر کوئی بادشاہ کو اغوا کرنے کی کوشش کرے تو فوراً مجھے اطلاع دو۔ مقبرے سے باہر جانے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کو گولی سے اڑا دیاجائے۔ میں خود بھی موقع پر موجود رہا لیکن عمارت کی آڑ میں چھپ گیا۔ میں نے مولوی رجب علی کو ہدایت دے رکھی تھی کہ وہ بادشاہ کو بتا دیں کہ اگر وہ خاموشی سے خود کو حوالے کرتے ہیں تو میں ان کی حفاظت کا ضامن ہوں لیکن اگر انہوں نے مقبرے سے فرار ہونے کا ارادہ کیا تو سمجھ لیں کہ مقبرے کے دروازے کی کمان میرے ہاتھ میں ہے، میں بغیر کسی رحم کے ان کو اور ان کے لواحقین کو گولی مار دوں گا۔
۷۔ دو تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد رسالدار نے بادشاہ کے باہر آنے کی اطلاع دی ۔ مرزا الٰہی بخش اور مولوی رجب علی بذاتِ خود بادشاہ کی پالکی کے ہمراہ چل رہے تھے۔ بادشاہ کی پالکی کے بالکل پیچھے بیگم زینت محل کی پالکی تھی، پھر بادشاہ کے ملازمین اور ان کے پیچھے قلعے اور شہرے سے بھاگے ہوئے پناہ گزینوں کا جم غفیر تھا۔ پالکیاں رک گئیں۔ بادشاہ نے یہ پیغام میرے نام بھیجا کہ وہ بادشاہ خود میری زبان سے اپنی جان بخشی کے الفاظ سننے کے خواہش مند ہیں۔ میں اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر ادھر کی طرف بڑھا لیکن حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے اپنے سپاہیوں کو بادشاہ کی سواری اور ان کے پیچھے آنے والے مجمعے کے درمیان میں کھڑا کر دیا۔ بظاہر ان کے ارادے خطرناک دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے لمحہ بھرتوقف کیا، پھر فوراً بادشاہ اور بیگم کے قریب پہنچ گیا۔ میں نے ان سے عہد کیا تھا ،اس کی بابت بادشاہ اور بیگم خوف زدہ تھے، میں نے ان سے یہ شرط منوائی تھی کہ وہ فرار ہونے کی کوشش نہیں کریں گے جس کا کہ اس وقت قوی امکان تھا۔ پھر میں نے سب کو سنانے کے لئے خاصی بلند آواز میں اپنے سپاہیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ''جو شخص اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش کرے اسے گولی مار دو‘‘۔ جیسے ہی وہ مجمعے سے کچھ دور آ گئے، میں نے مرزا الٰہی بخش اور مولوی رجب علی سے بادشاہ کی پالکیوں کے ساتھ ساتھ چلنے کو کہا۔ ساتھ ہی اپنے سپاہیوں کو بادشاہ کی پالکی کا تعاقب کرنے کا حکم دیا۔ میں نے ایک گھنٹے بعد بادشاہ اور بیگم کو میجر جنرل کے احکام کے مطابق قلعے کے دروازے پر آپ کے حوالے کرکے اطمینان کا سانس لیا ۔ ہڈسن‘‘
ہڈسن کے خط سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ گرفتاری میں دو تین روز لگے،گرفتاری کے لیے ہڈسن نے زینت محل کو دھوکے سے شیشے میں اتارنا پڑا۔

 

 

Bahadur Shah Zafar

Aslam Pervez

Recently Viewed Products

بہادر شاہ ظفر | اسلم پرویز

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart