FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

Doctor Zhivago | Boris Pasternak | ڈاکٹر زواگو

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.950.00 Rs.999.00 |  Save Rs.49.00 (4% off)

-3

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS

کتاب: ڈاکٹر زواگو
مصنف: بورس پاسترناک
ترجمہ: یوسف صدیقی
.
رُوسی انقلاب سے جنم لینے والی ایک لازوال کہانی، جس نے اُس دَور کے انسانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے اچانک بدل دیں۔ عوام رُوسی بادشاہ کے خلاف انقلاب لے تو آئے لیکن پھر اسی انقلاب سے اَن گنت دُکھوں نے جنم لیا جس کا شکار لارا، تانیا، ساشا اور ڈاکٹر زواگو جیسے مظلوم ہوئے۔ بعض کتابیں، ادیب اور ناول سلطنتوں، حکومتوں اور معاشروں سے بھی بڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے غیرمعمولی ناول جُنون سے لکھے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر زواگو اُن عظیم ناولوں میں سے ہے جس نے ایک پوری ایمپائر کو لرزا کے رکھ دیا تھا۔ اس ناول نے بالشویک انقلاب داؤ پر لگا دیا اور جنگِ عظیم دوم کے بعد رُوس اور مغرب کے درمیان جاری سرد جنگ کے دنوں میں ایک نئی کش مکش کا سبب بنا۔ بورس پاسترنک ڈاکٹر زواگو کے دُکھوں کی کہانی لکھ رہا تھا جو دو عورتوں کی محبّت کے درمیان پِس کر رہ گیا تھا۔ غریبوں نے امیروں کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ بادشاہ کو خاندان سمیت قتل کر دیا گیا۔ ناول نگار انقلاب کے بعد لہولہان رُوسی معاشرے میں بچ جانے والے انسانوں کی محبّت کی کہانی کو نیا رنگ دے رہا تھا لیکن انقلابیوں کو یوں لگا، ان کا انقلاب اس ناول کی وجہ سے خطرے میں ہے اور ہر قیمت پر ناول کو چھپنے اور پڑھنے سے روکنے میں بقا ہے۔ امریکیوں کو لگا، یہ موقع ہے، وہ اس عظیم ناول کی کاپیاں چھپوا کر دُنیا بھر میں بانٹ دیں تاکہ لوگ بالشویک انقلاب سے نفرت محسوس کریں۔ دُنیا کی طاقت ور ایجنسی سی آئی اے سب کام چھوڑ کر ’’ڈاکٹر زواگو‘‘ کو چھپوا کر دُنیا میں بانٹنے پر لگ گئی۔ رُوس کی برف پوش دھرتی سے جنم لینے والی جنون اور پیار کی ایسی کہانی جو صدیوں میں لکھی جاتی ہے۔ ایک عورت اور ایک مرد کی محبّت، جو کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی فنا نہیں ہو رہی۔ محبّت کی وہ کہانی جو بار بار لکھی اور بار بار پڑھی جارہی ہے۔ محبّت چیز ہی ایسی ہے، نہ کرنے والے تھکتے ہیں، نہ لکھنے اور پڑھنے والے۔ ڈاکٹر زواگو، ایک ایسا ناول جس نے اشاعت کے ریکارڈ توڑے۔ وہ تحریر جسے باربار بین کیا گیا، چھپایا گیا، ادیب پر پابندیاں لگائی گئیں لیکن محبّت کی یہ کہانی پھر بھی منظرِعام پر آئی اور اسے ادب کا عالمی نوبیل پرائز ملا۔ یہ اس شخص کی کہانی ہے جو ایک شاعر تھا، ایک ڈاکٹر بھی۔ وہ انقلاب کی افراتفری کے درمیان جہاں اپنی بیوی بچّوں کو مشکل ترین حالات سے بچانے کی کوششوں میں مصروف تھا، وہیں وہ ایک خوب صورت نوجوان لڑکی لارا کے عشق میں بھی گرفتار تھا۔ لارا پہلے سے شادی شدہ تھی اور اس کی خاطر وہ ہر رُکاوٹ عبور کرنے اور خطرات کا سامنا کرنے کو تیار تھا۔ اس ناول کی ایک سطر ہی آپ کو اُس دَور کی پوری کہانی سنا دیتی ہے، جب لارا اپنے محبوب ڈاکٹر زواگو سے کہتی ہے: ’’It's awful time to be alive, Yuri‘‘... یہ ایک فقرہ دِل کو ایک تیز آری سے کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ ہر شخص کو اس دُنیا سے رُخصت ہونے سے پہلے چند کتابیں ضرور پڑھنی چاہئیں۔ اس غیرمعمولی فہرست میں ڈاکٹر زواگو شامل نہیں تو سمجھ لیں آپ نے زندگی ادھوری گزار دی۔

رؤف کلاسرا

کچھ مصنف کے بارے میں:

بورس پاسترناک (10 فروری 1890ء - 30 مئی 1960ء) نوبیل انعام یافتہ رُوسی شاعر، ناول نگار اور مترجم، اپنے واحد ناول ’’ڈاکٹر زواگو‘‘ کے باعث عالمی شہرت کے حامل۔ ماسکو کے ایک امیریہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد لیوند پاسترناک ماسکو سکول آف پینٹنگ میں پروفیسر اور ٹالسٹائی کی کتابوں کے مصور تھے، والدہ کنسرٹ میں پیانو بجایا کرتی تھیں۔ والدین کا ماسکو کے ادیبوں اور موسیقاروں کے ہاں مستقل آنا جانا تھا جس سے بورس کے فن پر گہرے اثرات مرتّب ہوئے۔ ابتدائی تعلیم یوکرائن کے مذہبی سکول میں ہوئی۔ بعدازاں ماسکو میں موسیقی اور جرمنی میں فلسفے کی تعلیم پائی تاہم ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیے بغیر واپس رُوس چلے آئے اور شوقیہ اپنی شاعری چھپوانے لگے۔ جنگ عظیم اوّل اور 1917ء میں ’’اکتوبر انقلاب‘‘ کے بعد ان کے خاندان کے بیش تر افراد رُوس سے چلے گئے۔ بورس نے وطن نہیں چھوڑا۔ وطن کی یہی محبت آگے کی زندگی میں بھی بورس کے ’آڑے‘ آتی رہی۔ 1922ء میں ان کی شاعری کی کتاب’’Life, My Sister‘‘ رُوسی ادب میں انقلاب انگیز ثابت ہوئی اور اس نے جدید رُوسی شاعری کی راہ متعین کر دی ۔ بعد ازاں بورس اپنی شاعری میں مسلسل تبدیلیاں لاتے رہے اور اسے زیادہ سے زیادہ عوام فہم بنانےکے لیے کوشاں رہے۔ ساتھ ہی ساتھ شیکسپیئر، گوئٹے اور دیگر ادیبوں کی تحریروں کے رُوسی میں تراجم بھی کیے۔ 1957ء میں ’’ڈاکٹر زواگو‘‘ کی اشاعت پر انھیں بین الاقوامی شہرت ملی۔ اشاعت کے فوراً بعد اس ناول کا اٹھارہ زبانوں میں ترجمہ ہوگیا۔ بورس کی دیگر مشہور کتابوں میں ناولٹ ’’The Last Summer‘‘، آپ بیتی ’’Safe Conduct‘‘اور رُوسی ترجمہ’’Faust‘‘ شامل ہیں۔

کچھ مترجم کے بارے میں:
یوسف صدیقی (16 اکتوبر 1919ء -28 فروری 1985ء) مشرقی پنجاب کے ضلع انبالہ کے شہر روپڑ میں پیدا ہوئے۔ کچھ عرصے بعد والد بہ سلسلہ ملازمت دلّی منتقل ہوئے تو وہیں سے 1934ء میںگورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ 1937ء میں محکمہ ڈاک میںملازمت کی۔ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہا۔ 1938ء میں اورینٹل کالج سے بی اے کیا اور اسی سال روزنامہ وطن دلّی سے خارزارِصحافت میں قدم رکھا۔ 1942ء میں روزنامہ انصاری میں آگئے اور 4 سال تک صحافت کے ہر شعبے کی تربیت اورتجربہ حاصل کیا۔ 1946ء میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ میںشامل ہوئے۔ پاکستان بنا تو یوسف صدیقی بھی کراچی آگئےاور جنگ کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان میں آغاز ہی سےوابستہ ہو گئے۔ 1957ء میں ’’ڈاکٹر زواگو‘‘ اٹلی سے شائع ہوا، یوسف صدیقی نے اِسے پڑھا تو ترجمہ کرنے کی ٹھان لی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب وہ کچھ مدّت کےلیے جنگ سے علیحدہ ہو چکے تھے۔ یوسف صدیقی کی انگریزی میں مہارت جہاں ایک صحافی کے طور پر ان کے بڑے کام آئی، وہیں وہ بہترین مترجم بھی بن کرابھرے۔ اس کے ثبوت، دُنیا کی کئی مشہور کتابوں کے تراجم ہیں۔ اِن میں سب سے زیادہ شہرت جس ترجمے کو حاصل ہوئی، وہ ’’ڈاکٹر زواگو‘‘ کا ترجمہ ہے۔ انھوں نے مصر کے حکم راں کرنل جمال عبدالناصر کی زندگی کی ’’ہے پُراسرار داستانِ جمال‘‘، فرانسیسی استعمار سے الجزائر کی جنگِ آزادی کے مجاہدین ’’بومدین‘‘ اور ’’جمیلہ بوحیرد‘‘ کی زندگی اور جدّوجہد کی سلسلےوار داستانیں بھی لکھیں۔
Doctor Zhivago | Boris Pasternak
Tag: YUSUF SIDDIQUI
Pages: 608
ڈاکٹر زواگو
بورس پاسترناک 

Recently Viewed Products

Doctor Zhivago | Boris Pasternak | ڈاکٹر زواگو

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart