FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

کرشن چندر | غدار

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.400.00 |  Save Rs.-400.00 (Liquid error (sections/product-template.liquid line 159): divided by 0% off)

-8

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS

کرشن چندر اُردو کا مقبول و محبوب، مجتہد اور منفرد فن کارہے۔ انسان دوستی اور رجائیت اُس کا مشرب ہے۔ عوامی مسائل اور عوامی جدوجہد اُس کی تخلیقات کے موضوعات ہیں۔ اپنی گراں قدر تصانیف کی بدولت وہ عصرِحاضر کے مقتدر عالمی فنکاروں کی صفِ اوّل میں گنا جاتا ہے۔ اُس کی مقبولیت کا سبب جہاں عوام سے اس کی بے پناہ محبت ہے، جس کا اظہار وہ اپنی کہانیوں اور ناولوں میں کرتا ہے، وہاں اُس کا منفرد اسلوب اور دلکش طرزِ بیان بھی ہے جس سے وہ اپنے قارئین کے دل موہ لیتا ہے۔ ’’غدار‘‘ کرشن چندر کا ایک اہم ناول ہے جسے ۱۹۶۰ء میں خاص اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ اس ناول کا موضوع ۱۹۴۷ء کے فساداتِ پنجاب ہیں۔ اس سے قبل اس موضوع پر اس کی کہانیوں کا مجموعہ ’’ہم وحشی ہیں‘‘ شائع ہو کر اہل نظر سے خراجِ تحسین حاصل کر چکا ہے۔
بدقسمتی سے برصغیر کے دونوں طرف آج بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں، جن کے دلوں میں نفرت کا ناگ کُنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ کرشن چندر انتظار کرتا رہا۔ وہ پورے تیرہ سال یہ آس لگائے بیٹھا رہا کہ اس ناگ کا پَھن آپ سے آپ کچل دیا جائے گا لیکن اس طویل انتظار کے بعد جب اُس کی یہ آس نِراس میں تبدیل ہونے لگی، جب اُس نے دیکھا کہ ہر طرف ہم وجودیت (Co-Existence) کا دور دَورہ ہے، دُنیا کی بڑی سے بڑی قوتیں باہمی خیرسگالی اور تعاون، امن اور آشتی کی باتیں کرتی ہیں لیکن ان دونوں آزاد ملکوں کے لوگ جو کل تک ایک دوسرے کا گوشت پوست تھے، آج ایک دوسرے کو اس طرح گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں، جیسے اَزلی دشمن ہوں، تو اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اُس نے اس ناول کے رُوپ میں نفرت کے زہر کا تریاق پیش کیا!
مواد اور اسلوب کی مانند اس ناول کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جو ایک زبردست طنز پر مبنی ہے اور جو ناول کے پلاٹ کےپسِ منظر سے اُبھرا ہے۔ پلاٹ کا تانا بانا فساداتِ پنجاب سے تیار کیا گیا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب یہ فرقہ وارانہ فسادات پوری وحشت ناکی کے ساتھ بَرپا تھے تو انسانیت مسخ ہو کر رہ گئی تھی۔ زندگی کی اقدار جیسے راتوں رات تبدیل ہو گئی تھی۔ اگر کوئی فرزندِ اسلام، برادرانِ ملت سے کہتا تھا کہ ہندوئوں اور سکھوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے۔ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ ہمسایہ کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرو۔ ان کے قتلِ عام سے باز رہو، تو نام نہاد ’’رضاکار‘‘ جھٹ فتویٰ داغ دیتے تھے کہ یہ ’’سچا مسلمان‘‘ نہیں۔ یہ تو لالوں کا ایجنٹ اور سکھوں کا وظیفہ خوار ہے۔ اس ’’غدار‘‘ کو گولی سے اُڑا دو۔ اسی طرح اگر کوئی سکھ یا ہندو اپنے دھرم کے بھائی بندوں سے اپیل کرتا تھا کہ سری گوروگرنتھ صاحب کے مہاوالیہ ’’ایک پتا، ایکس کے ہم بارک‘‘ (ہم سب اُس قادرِ مطلق کی اولاد ہیں) کے انوسار مسلمان بھی ہمارے بھائی ہیں، ان کے خون سے ہاتھ نہ رنگو تو خود ساختہ ’’جتھے دار‘‘ اُس ’’غدار‘‘ ہندو یا سکھ کو اہل اسلام کا پِٹھو جتلا کر فی الفور ’’جھٹکانے‘‘ کا فرمان صادر کرتے تھے۔ چنانچہ اس دَورِ ابتلا میں بہت سے اس طرح کے مسلمان، سکھ اور ہندو ’’غدار‘‘ شہید کیے گئے۔
کرشن چندر کے اس ناول کا ہیرو بھی ایسا ہی غدار ہے۔ جب وہ ایک مسلمان کو ’’جھٹکانے‘‘ سے گریز کرتا ہے تو ’’جتھے‘‘ کا ’’جتھے دار‘‘ بُلّو آگے بڑھتا ہے اور ڈپٹ کر کہتا ہے:
’’او۔ کتے باہمن! تُو کیا لڑے گا، پرے ہٹ جا، غدار!‘‘
تو یہ ہے غدار،
برعکس نہند نامِ زنگی کافور!
اس ناول کی کہانی ۱۹۴۷ء کے شرمناک فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس میں اُلجھاوے نہیں، گرہیں نہیں، اس کی شاید ضرورت بھی نہیں۔ مصنف فی الحقیقت کہانی کی وساطت سے ہمیں ایک فلسفہ سمجھانا چاہتا ہے۔ انسانیت، نیک کرداری، امن اور اخوت کا فلسفہ! کہانی مختصراً یُوں ہے:
’’بیج ناتھ(ناول کا ہیرو) راوی کے اُس پار ضلع گورداسپور کے موضع کوٹلی سُودکاں کے ایک کھاتے پیتے برہمن گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ وہ فسادات کے طوفان میں گِھر کر موج ہائے خون کے تھپیڑے کھاتا ہوا لاہور پہنچتا ہے۔ ایک مسلمان دوست وہاں کی مسموم فضا سے بخیریت بچ نکلنے میں اُس کی اِعانت کرتا ہے۔ پھر وہ قتل و غارت کے کبھی نہ ختم ہونے والے خونیں مراحل سے گزر کر گرتا پڑتا راوی کے کنارے پر پہنچ کر جان بچانے کے لیے اُس میں کود پڑتا ہے اور تَیر کر دوسرے کنارے اس پار پہنچتا ہے۔ اس طرف بھی مذہبی جنون کے صدقے حیوانیت، بربریت اور بہیمیت کا ننگا ناچ اُسے دیکھنے کو ملا۔ جب اُسے پتا چلا کہ فسادیوں کے ہاتھوں اُس کے خاندان کے کچھ افراد قتل اور اُس کی بہن اغوا کر لی گئی (وہ اعِزّہ واقارب سے بچھڑ کر تن تنہا ’’پاکستان‘‘ سے ’’ہندوستان‘‘ پہنچا تھا) تو وہ بھی مشتعل ہو گیا اور مسلمانوں کے قاتلوں میں شریک ہو گیا لیکن اس کا یہ اشتعال بالکل عارضی تھا۔ بہت جلد اُس نے اپنی کمزوری پر قابو پا لیا۔ فرقہ وارانہ نفرت اور مخاصمت کی لمبی، خوفناک اور دُکھ بھری رات کا اَنت ہوا اور راوی کے کنارے اَمن، اخوت، انسانیت اور آس کا سویرا جگمگا اُٹھا!‘‘
ساری کہانی میں کہیں اُکتاہٹ نہیں بلکہ قاری جیسے کسی جادو کے زیرِ اثر پُرامن شہریوں کے قتلِ عام اور مجسمۂ عصمت خواتین کے اغوا اور عصمت دَری کے دلدوز اور روح فرسا واقعات کا دل تھام کر مطالعہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اس سحرکاری کا ایک سبب تو مصنف کا دلفریب پیرایۂ اظہار ہے اور دوسرے وہ حکمت (Tact) ہے جس سے کام لے کر پلاٹ میں سانحاتِ فسادات کی تلخی کے ساتھ محبت اور رومان کی چاشنی بھی شامل کر دی گئی ہے۔

رازؔ سنتوکھ سری
Ghaddar Krishan Chandar

Recently Viewed Products

کرشن چندر | غدار

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart