FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

اقبال کا تصور بقائے دوام | ڈاکٹر نعیم احمد

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.530.00 |  Save Rs.-530.00 (Liquid error (sections/product-template.liquid line 159): divided by 0% off)

-3

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS

اقبال کا تصور بقائے دوام
ڈاکٹر نعیم احمد
.

یہ امر اصحاب فکر ودانش سے پوشیدہ نہیں کہ اقبال پر اگر چہ کافی کام ہو چکا ہے۔تاہم ایسی تحقیقات کی تعداد بہت کم ہے۔جو کہ خالص فلسفیانہ نکتہ نظر سے کی گئی ہو۔اردو یا فارسی شاعری کے حوالے سے اقبال کے سیاسی ،سماجی، اور مذہبی افکار پر ہمیں متعدد کتابیں اور تحقیقی مقالے مل جاتے ہیں۔ لیکن اس کے فلسفیانہ افکار کو فنی نقطہ نظر سے اجاگر کرنے کی بہت کم کوشش کی گئی ہے۔اگر میں یہ کہوں کہ اقبال کی کتاب’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ ہی ایک ایسی کتاب ہے۔ جو اس کی بین الاقوامی شہرت کا باعث بنی ہے۔ اور اسے عالمی فلسفیانہ روایت سے منسلک کرتی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ بات میں محض رسمی تعریف وتوصیف کے طور پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔بیرون ملک میں نے جس استاد فلسفہ کو یہ کتاب پڑھنے کے لئے دی، اس نے مجموعی طور پر اسے پسند کیا۔ غیر ملکی مسلمان طلبہ اور اساتذہ نے تواس میں خصوصی دل چسپی لی ہے۔ اور میں نے اپنے طور پر انہیں کچھ کاپیاں منگوا کر پیش کیں۔چنانچہ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ بحیثیت پاکستانی اقبال کے انگریزی خطبات کو بیرون ملک متعارف کرانے میں مجھے فخر محسوس ہوا۔

فکر اقبال سے میری دل چسپی زمانہ طالب علمی سے ہی ہے۔ قدرتی طور پر میرا رجحان اقبال کی شاعری کی بجائے اس کے فلسفے کی طرف رہا۔ شاید یہی وجہ رہی کہ میں نے کوئی اور کیریئر اپنانے کی بجائے فلسفے کی متعلمی اور معلمی کو ترجیح دی۔فلسفہ اقبال کے مختلف پہلوؤں پر میرے مقالے تحقیقی جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔

چند سال پہلے جریدہ اقبال میں میرا ایک مقالہ بعنوان ’’اقبال کا تصور بقائے دوام‘‘ چھپا۔جو مختلف حلقوں میں پسند کیا گیا، یہ مضمون لکھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اقبال اس مسئلے میں گہری دل چسپی رکھتا تھا۔ اور اپنے خطبات میں اس کے بارے میں جو اس نے مختصر حوالے دیئے ہیں،ان کی کما حقہ تشریح وتوضیع ایک مختصر سے مقالے میں نا ممکن ہے۔چنانچہ اس موضوع پر میں نے باقاعدہ تحقیق شروع کر دی۔ جو کہ اب ایک کتاب کی صورت میں آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

فلسفیانہ مضوعات پر لکھنا انگریزی زبان میں نسبتا سہل ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انگریزی زبان میں تحقیقی مواد وافر مقدار میں مل جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انگریزی زبان میں لکھتے ہوئے فلسفے کے فنی اور تحقیقی اسلوب کا معیار قائم رہتا ہے۔ اس کے بر عکس اگر فلسفیانہ موضوعات پر کسی ایسی زبان میں لکھا جائے،جس کا دامن اتنا وسیع نہ ہو تو تحقیق وتصنیف کاکام ایک صبر آزما مہم بن جاتا ہے۔چنانچہ اردو میں لکھتے ہوئیمجھے بار بار رکاوٹیں اور مشکلات پیش آتی رہتی ہیں۔کبھی ترجمے کی مشکل ،کبھی اصطلاح کی غیر موزونی اور کبھی اردو زبان کی تنگی دامان کا احساس۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر میرے لئے انگریزی زبان میں یہ کتاب لکھنا آسان تھا، تو میں نے اردو زبان میں یہ مقالہ کیوں لکھا؟۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اپنے طور پر اردو زبان میں فلسفیانہ مسائل پر لکھنے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ اردو زبان ایک ایسی فنی شکل اختیار کر لے، جس میں فلسفیانہ اور سائنسی موضوعات پر اظہار خیال ہو سکے۔یہ کام محض تراجم سے حاصل نہیں ہو سکتا،اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اصحاب جنہوں نے مختلف سائنسی اور فنی علوم کی تحصیل انگریزی زبان میں حاصل کی ہے۔ وہ آزادانہ اپنی زبان میں اظہار خیال کریں۔۔۔۔شروع شروع میں مشکلات پیش آئیں گی لیکن بتدریج ایک ایسی فنی زبان کی شکل سامنے چلی آتی جائے گی،جو سائنسی موضوعات پر اظہار خیال کے لیے ہر طرح سے معیاری اور مستند ہو۔

آج اردو زبان کا وہی حال ہے،جو سترھویں اور اٹھارویں صدی میں انگریزی زبان کا تھا۔اس زمانے میں یورپ کی مسیحی دنیا پر لاطینی زبان کا غلبہ واستیلاء تھا۔مختلف زبان کے پادری اور متکلمین لاطینی زبان میں مذہبی تعلیم حاصل کرتے،اور لاطینی زبان ہی کو اظہار خیال کا ذریعہ بناتے،ازمنہ سطی کا تمام لٹریچر بھی لاطینی زبان میں تھا۔ چنانچہ کسی بھی یورپی ممالک کے طالب علم کے لئے ضروری تھا کہ وہ لاطینی زبان میں تعلیم حاصل کرے۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ مفکرین جو لاطینی زبان میںتحصیل علم کرتے تھے، اپنی ملکی زبانوں میں بھی لکھنے لگے۔ برطانوی مفکر مثلا (لاک، برکلے، اور ہیوم) نے بھی لاطینی زبان میں علم حاصل کیا تھا، لیکن انہوں نے اپنے فلسفہ کو لکھاانگریزی زبان میں،اسی طرح رفتہ رفتہ صدیوں کا علمی ورثہ انگریزی زبان میں منتقل ہو گیا۔اور لاطینی زبان کی جگہ انگریزی زبان نے لے لی۔

کم وبیش ویسی ہی صورت حال ہماری زبان کی ہے، ہم انگریزی زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ انگریزی کے بارے میں معتصبانہ رویہ اختیار کرنا نہ صرف نا جائز ہے،بلکہ نقصان دہ بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو بھی اپنایا جائے۔بالخصوص علم وفنون میں مہارت رکھنے والے اصحاب،جنہوں نے انگریزی زبان میں تحصیل علم کی ہو، اپنی زبان کو اتنا ہی معیاری اور ثقہ بنانے کی کوشش کریں،جتنا کہ انگریزی زبان ہے۔ اردو زبان کی ترقی اور ترویج کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام علمی ورثہ جو کہ انگریزی زبان میں موجود ہے۔ پہلے ہمارے اصحاب فکر ودانش کے اذہان میں جذب ہو۔اور پھر جب یہ اردو زبان میں منتقل ہو تو کوشش کی جائے کہ یہ ہر اعتبار سے اتنا ہی معیاری اور ثقہ ہو،جتنا کہ انگریزی زبان میں ہے، تراجم کی اہمیت سے ہم انکار نہیں کر سکتے،لیکن یہ کام صرف ترجمے سے حاصل نہیں ہو سکتا، یہ ہے وہ مقصد جس کے تحت میں نے زیر نظر کاوش کو اردو زبان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا،بعض جگہوں پرانگریزی حوالے دینے ضروری تھے، میں نے ان حوالوں کا ترجمہ دیا ہے۔ اور نوٹس میں ان کا اصلی متن بھی دے دیا ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے جہاں کہیں ضروری محسوس ہوا ہے ،اردو اصطلاحات کے انگریزی مترادفات بھی دے دیئے ہیں۔تاکہ دوران مطالعہ اگر کوئی اصطلاح غیر مانوس ہو تو انگریزی اصطلاح اس کا مفہوم ادا کرے۔اس کے علاوہ آخر میں ایک فرہنگ اصطلاحات دے دی گئی ہے۔ تاکہ یہ پتا چل سکے کہ فلسفیانہ اور انگریزی مباحث میں ہم انگریزی اصطلاحات کی جگہ کون سی اردو اصطلاحات استعمال کر سکتے ہیں۔

ایک بات جس کی طرف میں اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں یہ ہے کہ بقائے دوام کا مسئلہ میرے نزدیک صرف ایک مابعد الطبیعاتی مسئلہ تھا،لیکن تحقیق کے دوران مجھے پتا چلا کہ اس کے اثرات نہ صرف فرد کی زندگی پر بلکہ قوموں کی اجتماعی زندگی پر بھی بہت گہرے مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال مصر کی قدیم تہذیب ہے۔ جس میں اہرام مصر تعمیر کیے گئے۔اگر مسلمانوں کی فتوحات کے اسباب وعلل کا تجزیہ کیا جائے،تو آخرت کی زندگی پر ایمان ایک قوت محرکہ کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتا ہے۔اس کتاب کے آخری صفحات سے پتا چلے گا کہ بقائے دوام کا نظریہ دور رس سماجی ومعاشرتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

آخر میں مجھے شکریہ ادا کرنا ہے جناب جسٹس ڈاکٹر جاویدا قبال کا جنہوں نے اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر نہایت غور سے مسودے کو پڑھا اور بعض جگہوں پر ترامیم اور اضافے تجویز کیے۔ ان کے مشوروں سے تحقیق کے بعض ایسے گوشے نمایاں ہوئے،جن سے میں قبل ازیں بے خبر تھا۔

اقبال اکادمی کے سر براہ مرزا محمد منور صاحب نے خاص توجہ سے مسودہ کو پڑھا اور اس کی طباعت واشاعت کا اہتمام کیا۔ میں اس کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔

سہیل عمر صاحب اور ڈاکٹر وحید عشرت صاحب میرے خاص شکریے کے مستحق ہیں،کیونکہ ان ہی کی کوششوں سے یہ کتاب ممکنہ حد تک مختصر عرصے میں طباعت واشاعت کے مرحلوں سے گزر سکی۔

رسم سپاس گزاری اس وقت تک نا مکمل رہے گی جب تک میں شعبہ فلسفہ کے چئیر مین اور پروفیسر ڈاکٹر عبد الخالق صاحب کا شکریہ ادا نہ کروں۔اکثر مقامات پر ان کے مشورے نہایت خیال افروز ثابت ہوئے۔

نعیم احمد

۱۱ مارچ ۱۹۸۹ئ؁

قائد اعظم کیمپس (نیو کیمپس لاہور)

Iqbal ka Tasawar e Baqa e Dawam
Dr. Naeem Ahmed

Recently Viewed Products

اقبال کا تصور بقائے دوام | ڈاکٹر نعیم احمد

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart