FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

روزگارِ فقیر | Rozgar e Faqeer

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.1,100.00 |  Save Rs.-1,100.00 (Liquid error (sections/product-template.liquid line 159): divided by 0% off)

-21

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS

روزگارِ فقیر
فقیر سیّد وحیدالدین
2جلدیں مکمل | ضخامت: 670 صفحات


-----------------------------------------------------
فقیر سید وحیدالدین نے جب علامہ اقبال کی شخصیت پر اپنی کتاب مکمل کرلی تو وہ مسودہ لے کر فیض صاحب کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ وہ اس پر ایک نظر ڈال لیں اور اس کا کوئی اچھا سا موزوں نام بھی تجویز کردیں۔ فیض احمد فیض اُن دنوں پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے۔ فیض نے مسودہ اُن سے لے لیا اور کہا کہ آپ فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔
وحیدالدین کے ایک دوست اقبال احمد صدیقی بھی اس موقع پر اُن کے ساتھ تھے، جنہوں نے اس کتاب کے مسودے میں اُن کی بھرپور مدد کی تھی، ان کا کہنا ہے کہ ’’جب ہم واپس ہوئے تو فیض ہمیں رخصت کرنے کے لیے نیچے آئے۔ جب ہم تینوں درمیانی سیڑھیوں تک پہنچے تو فیض نے مسکراتے ہوئے کہا ’’لیجیے آپ کی کتاب کا نام تو ذہن میں آ گیا۔ اس کا نام ’’روزگارِ فقیر‘‘ ہونا چاہیے۔‘‘
سید وحیدالدین بتاتے ہیں کہ وہ یہ نام سنتے ہی خوشی سے وارفتہ ہوگئے۔ انھوں نے فیض کو گلے لگا کر کہا کہ تم نے یہ نام تجویز کرکے مجھے زندگی کی ایک ایسی نعمت عطا کی ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہوسکتی۔
فقیر سید وحید الدین کی علامہ کی شخصیت پر یہ کتاب اسی نام سے جو فیض نے تجویز کیا تھا، چھپی اور اس کتاب کا پیش لفظ بھی فیض صاحب نے لکھا ہے۔ 20 جولائی 1950ء کو حصہ اول کے پیش لفظ میں فیض احمد فیض لکھتے ہیں:
’’علامہ اقبال مرحوم ہمارے دور کی سب سے اہم اور سب سے عظیم المرتبت ادبی شخصیت تھے۔ لیکن یہ کہنا بھی غالباً غلط نہ ہوگا کہ ہرچند مرحوم کے متعلق تنقیدی ادب کا ایک ذخیرہ جمع ہوچکا ہے، ان تصنیفات میں شاعرِ مشرق کی ذات شاذ ہی دکھائی دیتی ہے۔ بیشتر لکھنے والوں نے اپنا زورِ قلم اقبال کے فلسفیانہ عقائد اور تعلیمات کی تفسیر و تشریح پر صرف کیا اور اقبال کے شعر میں بھی اقبال کی ذات کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔
’’روزگارِ فقیر‘‘ حیاتِ اقبال کا جامع تذکرہ نہیں ہے، نہ اس میں شاعرِ مشرق کی شخصیت یا اس شخصیت کے کسی پہلو کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کی نوعیت ایک سیاح کی ڈائری کی سی ہے جو کبھی کسی دلکش وادی میں سے گزرا ہو، اور کئی برس بعد فرصت کے اوقات میں اس حسین سفر کی بسری ہوئی یادوں کی شیرازہ بندی کرنا چاہے۔ کسی دل فریب صبح کی ایک جھلک، کسی دلکش شام کا ایک منظر، ہوا میں اڑتا ہوا ایک خزاں رسیدہ پتّا یا جنگل میں سر جوڑے ہوئے ہزاروں تناور درخت، گھاس پر جگمگاتا ہوا شبنم کا اکلوتا موتی یا شفق میں ڈوبی ہوئی کوئی وسیع اور ذخار جھیل، چھوٹی اور بڑی باتیں، فطرت کے حقیر اور عظیم مناظر، واضح مبہم، نیم مبہم یادیں جو بھی سیاح کے ذہن میں محفوظ ہے، اس نے بلا کم و کاست لکھ دیا ہے۔ ان نگارشات کا تسلسل اس کی اپنی یاد کا تسلسل ہے۔ یاد ہی کی دھوپ چھاؤں میں مصنف کے ممدوح کے نقوش کبھی روشن، کبھی دھندلے دکھائی دیتے ہیں۔
مصنف نے اقبال مرحوم کو پہلی دفعہ بچپن میں دیکھا تھا۔ ہرچند برسوں بعد تک مرحوم سے ان کی ملاقات رہی۔ لیکن اپنی کتاب میں انہوں نے شروع سے آخر تک بچپن ہی کے مخصوص تحیر، ادب اور نیازمندی کا انداز قائم رکھا ہے۔ یہی خلوص اور انکسار ’’روزگارِ فقیر‘‘ کو اپنی نوع کی دوسری کتابوں سے ممیز کرتا ہے۔ ’’روزگارِ فقیر‘‘ میں مصنف نے زبان اور طرزِ بیان میں بھی اسی انداز کی رعایت ملحوظ رکھی ہے اور سادگی کو تصنع، اور بے ساختہ روزمرہ کو مغلق لفظی آرائش و زیبائش پر ترجیح دی ہے۔ ان کی یادداشت کا گنجینہ زیادہ بھرپور نہیں ہے اور انہوں نے اپنی یادوں کو وقت اور فراموش گاری کی دست برد سے بچانے کی بہت پہلے کوئی تدبیر نہیں کی۔ یہ گلہ ایک طرح اِس کتاب کی دلچسپی اور افادیت کا اعتراف بھی ہے۔ اس لیے کہ کوتاہیِ داستان کی شکایت، حکایت کے لذیذ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اس لذت کے علاوہ جب تذکرے اور سیرت کے ماہرین معلومات کا ریزہ ریزہ جمع کرکے حیاتِ اقبال کا لفظی قالب تیار کرنے بیٹھیں گے تو اس تصنیف کو بہت مفید پائیں گے۔ اس تصنیف میں اقبال کی زندگی کے گھریلو روزمرہ مناظر، ان کی نجی صحبتیں اور رنجشیں، راحتیں اور کلفتیں، ان کے دل کا گداز اور دماغ کی شگفتگی، اقبال کے آنسو اور اقبال کے قہقہے سبھی شامل ہیں۔ یہ بکھرے بکھرے اور غیر مکمل سہی لیکن ان کی تکمیل اور ترتیب کچھ ایسا مشکل کام نہیں تھا۔
کرنل وحیدالدین صاحب کے بیشتر ایام سرکاری ملازمت میں گزرے ہیں۔ لیکن یہ تصنیف گواہ ہے کہ اپنے آبائی ورثے سے وہ بھی محروم نہیں۔ ’’دانائے راز‘‘ کے عقیدت مندوں میں یہ کتاب یقینا مقبول ہوگی۔‘‘

Recently Viewed Products

روزگارِ فقیر | Rozgar e Faqeer

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart