FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

Shairon, Adeebon ke Lateefe | شاعروں، ادیبوں کے لطیفے

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.905.00 Rs.999.00 |  Save Rs.94.00 (9% off)

-20

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS


خوش رھا کرو پریشان رہنے والوں کو کبھی کچھ نہیں ملا ـ اگر ملا بھی تو وہ اس سے لطف اندوز کبھی نہیں ھو سکے صرف اس لیے کہا تھا کہ میں خود اس دور سے گزر چکا ھوں ـ برسوں تک خوب دل لگا کر پریشان رھا شاید اس لیے کہ پریشان ھونا بے حد آسان ھے ـ لیکن سوائے اس کہ چہرے پر غلط جگہ لائنیں پڑ گئی کوئی فائدہ نہیں ھوا ـ اب اس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ چہرے پر لائنیں پڑنی ھی ھے تو فقط وہاں پڑنی چاہیں جہاں مسکراھٹ سے بنتی ھیں ــ"
شفیق الرحمن

شاعروں، ادیبوں کے لطیفے
مرتب : شاہد حمید
صفحات : 600
قیمت : 999 روپے
(نایاب تصاویر، خوبصورت طباعت کے ساتھ)
 ڈرامہ نگار، دانشور اور طنزو مزاح نگار انور مقصود سے کسی نے پوچھا: 
’’پاکستانی سیاستدانوں کو الیکشن میں کیسے چُنا جائے؟‘‘
انور مقصود نے بامعنی جواب دیا:
’’جیسے اکبر بادشاہ نے انارکلی کو ’’چنا‘‘ تھا--دیوار میں --‘‘

 ایک دفعہ مرزا غالب گلی میں بیٹھے آم کھا رہے تھے، ان کے پاس ان کا ایک دوست بھی بیٹھا تھا جو کہ آم نہیں کھاتا تھا۔ اسی وقت وہاں سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو غالب نے آم کے چھلکے گدھے کے آگے پھینک دئیے۔ گدھے نے چھلکوں کو سونگھا اور چلتا بنا تو غالب کے دوست نے سینہ پھلا کر کہا دیکھا مرزا، گدھے بھی آم نہیں کھاتے تو مرزا نے بڑے اطمینان سے کہا کہ جی ہاں دیکھ رہا ہوں گدھے آم نہیں کھاتے۔

 ایک دفعہ جون ایلیا نے اپنے بارے میں لکھا کہ میں ناکام شاعر ہوں ۔
اس پر مشفق خواجہ نے انہیں مشورہ دیا :
’’جون صاحب ! اس قسم کے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔ یہاں اہلِنظر آپ کی دس باتوں سے اختلاف کرنے کے باوجود ، ایک آدھ بات سے اتفاق بھی کر سکتے ہیں۔‘‘

 جوش ملیح آبادی نے پنجابی زبان کی اکھڑ پن سے زچ ہو کر کنور مہندر سنگھ بیدی سے کہا: ’’کنور صاحب! کیا آپ جانتے ہیں کہ دوزخ کی سرکاری زبان یہی آپ کی پنجابی ہوگی۔‘‘ کنور صاحب نے برجستہ جواب دیا: ’’تو پھر جوش صاحب! آپ کو ضرور سیکھ لینی چاہیے۔‘‘

 مرزا غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچیسی کھیل رہے تھے۔ میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی شیفتہ دہلی آئے تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک مہینے میں مرزا پچیسی کھیل رہے تھے۔ انہوں نے اعتراض کیا: ’’مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان قید کر دیا جاتا ہے۔‘‘ مرزا غالب نے جواب دیا: ’’مفتی صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیاجاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔‘‘

 ایک مرتبہ حبیب جالب نے ناصر کاظمی سے کہا:
’’جب بھی آپ کی کوئی غزل کسی رسالے میں دیکھتا ہوں، دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے، کاش یہ غزل میرے نام سے چھپتی!‘‘
ناصر کاظمی نے شکریہ ادا کیا۔ کچھ دیر بعد حبیب جالب نے پوچھا: ’’میری غزل دیکھ کے آپ کا کیا ردِعمل ہوتا ہے؟‘‘
ناصر کاظمی نے کہا:
’’شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ غزل میرے نام سے نہیں چھپی۔‘‘

 ساحرلدھیانوی نے اپنی نظم ’’فن کار‘‘ کے ایک شعر میں عرصہ گاہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کسی نے اس لفظ پر اعتراض کیا تو ساحر نے ایک صاحب کی معرفت علامہ تاجور نجیب آبادی سے استفسار کیا۔ 
علامہ تاجور نے کہا: 
’’اگر کسی دوست نے استعمال کیا ہے تو صحیح ہے، اگر کسی دشمن 
نے لکھا ہے تو غلط ہے، میں دونوں طرح ثابت کر سکتا ہوں۔‘‘

 ایک اعلیٰ عہدے دار پطرس بخاری سے ملاقات کے لیے آئے، پطرس نے کہا: ’’تشریف رکھیے!‘‘
ان صاحب کو یوں محسوس ہوا کہ کچھ بے اعتنائی برتی جا رہی ہے، چنانچہ انہوں نے کہا: ’’مَیں محکمہ برقیات کا ڈائریکٹر ہوں۔‘‘
پطرس مسکرائے اور کہا: ’’پھر آپ دو کرسیوں پر تشریف رکھیے!!‘‘

 فیروز خان نون کی پہلی بیوی بیگم نون کے نام سے موسوم تھیں۔ جب فیروز خان نون نے دوسری شادی کر لی تو ان کی ایک شناسا نے مولانا سالک سے بطور مشورہ پوچھا: ’’اب دوسری بیوی کو کیا کہا جائے گا؟‘‘
مولانا نے بے ساختہ جواب دیا: ’’آفٹر نون۔‘‘

 علامہ اقبال کو ستار بجانے کا بہت شوق تھا۔ ایک صبح ستار بجانے میں محو تھے کہ سرذولفقار علی اور سردار جو گندر سنگھ تشریف لے آئے۔ ان کو ستار بجاتے دیکھ کر جوگندر سنگھ بولے: 
’’ہر وقت ستار کو گود میں لیے بیٹھے رہتے ہو۔‘‘ 
علامہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: 
’’کیا کروں ”سِکھنی“ جو ہوئی۔

Recently Viewed Products

Shairon, Adeebon ke Lateefe | شاعروں، ادیبوں کے لطیفے

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart