FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

زمان و مکان | ڈاکٹر وحید عشرت

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.1,500.00 |  Save Rs.-1,500.00 (Liquid error (sections/product-template.liquid line 159): divided by 0% off)

-2

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS

زمان و مکان
ڈاکٹر وحید عشرت
.
زماں و مکاں کی ماھیت ایک نہایت اھم لیکن پیچیدہ اور دقیق فلسفیانہ موضوع ھے،بادی النظر میں یوں محسوس ھوتا ھے کہ گرد و پیش کا ھمارا سارا علم زماں و مکاں کا پابند ھے اور ھمارے تمام تجربات زمان و مکان کی حدود کے اندر ہی رونما ھوسکتے ھیں، لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں ھے۔۔
تجربات کی کئ اقسام ھیں اور ان اقسام کی مناسبت سے زمان و مکان کی مختلف سطحوں کی بات کی جاسکتی ھے، مثال کے طور پر عام حّسی تجربے میں آنے والے زمان و مکان کا ادراک ھم لمحوں اور نقطوں کے حوالے سے کرتے ھیں، جبکہ شعوری کیفیتوں کے ضمن میں ھمیں جس زمان سے واسطہ پڑتا ھے اس کی یوں پیمائش کرنا ممکن نہیں۔کہاجاتاھے کہ بعض لمحے صدیوں سے بھی زیادہ طویل ھوتے ھیں اور بعض صدیاں لمحوں سے بھی کہیں مختصر ھوتی ھیں،شاعرانہ مبالغہ آرائی سے کام نہ بھی لیا جائے تب بھی روز مرہ زندگی میں ان کیفیات کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کھبی وقت گزارنا مشکل ھوجاتا ھے اور کھبی وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ھوتا۔ اسی طرح مادی اشیاء کی ھر حرکت جس قسم کی میکانیت کا تقاضا کرتی ھے وہ اس میکانیت سے مختلف ھے۔ جو آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے درکار ھے، روشنی کے سفر کے لئے مکان کا تصور اس سے بھی مختلف ھے،جہاں تک ماحول کی شعوری آگئی کا تعلق ھے اس کےلئے فاصلوں کے سارے پیمانے یکسر بے معنی ھوکر رہ جاتے ھیں۔ اگر ھمارا تمام تجربہ زمان و مکان کا پابند ھے تو پھر اس جُملے کا مطلب کیا ھوگا کہ ھمارے بعض تجربات زمان ومکان سے ماورا ھوتے ھیں ؟ کیا اس کا مطلب محض یہ نہیں کہ زمان و مکان کے ادراک کے لحاظ سے تجربہ کی مختلف سطحیں ھیں اور جب ھم کسی تجربہ کو زمان و مکان سے ماورا قرار دیتے تو در اصل ھم یہ کہہ رھے ھوتے ھیں کہ اس تجربے سے حاصل ھونے والا زمان ومکان کا ادراک روزمرہ تجربے کی سطح پر پائے جانے والے زمان و مکان کے ادراک سے مختلف ھے۔
اگر زمان و مکان کی مناسبت سے تجربے کی مختلف اقسام موجود ھیں تو سوال پیدا ھوتا ھے کہ ان سے کونسی قسم حقیقی ھے،زمان و مکان کا کونسا روپ امر واقعہ سے قریب ترین ھے۔اگر اس زمان و مکان کو حقیقی قرار دیا جائے جس سے ھمیں اپنے روزمرہ تجربے میں واسطہ پڑتا ھے جس کی ھم لمحوں اور نقطوں سے پیمائش کرتے ھیں اور جسے لا محدود طور پر تقسیم کیا جانا ممکن ھے تو زِینو سال ھا سال پہلے منطقی طور پر ثابت کرچکا ھے کہ زمان و مکان کے اس تصور کی بنیاد پر حرکت کے وجود کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔اگر اس زمان و مکان کو حقیقی کہا جائے جس کا تجربہ ھمیں اپنی ذاتی کیفیات میں ھوتا ھے تو پھر شدید موضوعیت بلکہ عفدیت سے چھٹکارا ممکن نہیں۔اگر زمان و مکان سے ماورا نوعیت کے تجربے میں پائے جانے والے احساس کو حقیقی قرار دیا جائے تو پھر حرکت و کثرت یہ کائنات محض التباس اور فریبِ نظر قرار دی جائے گی۔
تاریخِ فلسفہ میں عقلیت پسندوں کے مکتبِ فکر کا یہ عمومی موقف رھا ھے کہ ھمارے تمام تر علم کی بنیاد چند بدیہی تصورات ھیں جو قبل از پیدائش ذھنِ انسانی میں موجود ھوتے ھیں، زمان و مکان کا بھی ایک قبل از پیدائش تصور ذھن میں پایا جاتا ھے، لیکن اگر تمام تر علم کی بنیاد پیدائشی طور پر ودیعت کئے گئے عقلی تصورات ھیں تو پھر ھمارا علم استخراجی یا تحلیلی ھوگا،چناچہ عقلیت پسندوں کے نزدیک صرف استخراجی اور تحلیلی طریقہ سے حاصل شدہ علم ہی ھمہ گیر اور لازمی ھوسکتا ھے، اس امر سے اختلاف ممکن نہیں کہ صحیح علم کو ھمہ گیر اور لازمی ھونا چاھیئے،لیکن اس مقصد کے لئے حسّی تجربہ سے حاصل شدہ زمانی و مکانی اشیاء کے علم کو یکسر مسترد کرنا ضروری ھے ؟ کیا زمان و مکان کی کوئی معروضی حقیقت نہیں ؟ کانٹ نے عقلیت کو تجربیت سے ھم آھنگ کرنے کے لئے یہ موقف اخیتار کیا کہ ھمارے تمام علم کا خام مواد حسّی تجربہ ھی مُہیا کرتا ھے،لیکین ذھن جس میں زمان و مکان اِدراکی اشکال (ٖForms of Perception) کی حیثیت سے وھبی طور پر موجود ھیں۔ اس خام مواد کو ان اشکال کے سانچے میں منظم اور مرّتب کرتا ھے۔ اب چونکہ زمان و مکان ذھن میں وھبی طور پر پائی جانے والی دو خالص اشکال ھیں جو ھمارے تمام ادراک کی لازمی اور بنیادی شرط ھیں،ان کے سانچے میں مرّتب ھونے والے علم سے لابدی اور ھمہ گیر اصولوں کا استخراج ممکن نہیں،لیکن اس نظرئے کی رُو سے زمان و مکان کو کوئی معروضی وجود بہرحال نہیں رھتا۔ھمیں چُونکہ تحّسات موصول ھوتے ھیں لہذا خارج از ذھن کائنات موجود ھیں۔ اور چونکہ ان تحّسات کو ذھن میں پائے جانے والے زمان و مکان کے موضوعی سانچے میں مرّتب کئے بغیر وصول نہیں کیا جاسکتا۔ھمیں کھبی بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ اَصل حقیقت کیا ھے۔ھمارا تمام علم صرف مظاھر تک محدود رھتا ھے۔ حقیقت یا شے فی نفسہ ھمارے ادراک کی گرفت سے ھمیشہ باھر رھتی ھے۔
لیکن کیا زمان و مکان کا یہ موضوعی نظریہ جو روز مرہ تجربے کی اس کائنات کو ھمارے لئے اجنبی اور نہ معلوم ھونے والی حقیقت میں تبدیل کردیتاھے، قبول کیا جاسکتا ھے ؟ زمان ومکان کو معروضی قرار دیا جائے تو اس کی لامحدود تقسیم پذیری اور پھر حرکت کے انکار کا مسلہ پیدا ھوجاتا ھے، موضوعی قراردیں تو اس سے اور قسم کے ناقابل تسلیم مُضّرات سامنے آتے ھیں، تاھم اپنے آپ کو اور اپنے گرد و پیش کو جاننے کے لئے زمان و مکان کے بارے میں کسی صحیح نظریئے کی تلاش کی اھمیت سے صَرفِ نظر بھی ممکن نہیں، یہی وجہ ھے کہ صدیوں سے فلسفی،ریاضی دان اور سائنس دان اس موضوع پر غور و فکر کرتے رھے ھیں، موجودہ صدی کی ابتداء میں آئن سِٹائن نے زمان و مکان کی اضافیت کا نظریہ پیش کرکے سائنس اور فلسفے کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب پرپاکردیا۔لیکن یہ کہنا کہ اس نظریئے نے زمان و مکان کی ماھیئت سے پیدا ھونے والی ھماری تمام الجھنوں کو دور کردیا ھے محض ایک سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتا ھے۔
یہ نہیں ھوسکتا تھا کہ قرون وسطی کے مسلم فلسفی اپنے دورِ عروج می اس مسئلہ پر غور و فکر نہ کرتے۔۔تخلیق کی ماھیت ، جبر و قدر اور خُدا کی اولّیت جیسے مسائل کا براہ راست تعلق مسئلہ زمان و مکان سے بنتا ھے۔ مسلم فلسفیوں فارابی، اِبن رُشد اور ابن سینا کے نظریات پر غزالی اور ابن رُشد کے درمیان الٰیہاتی مباحث میں زمان و مکان کی ماھیت پر دلچسپ بحث ملتی ھے، اس سے پہلے اشاعرہ نے اس موضوع پر فکر انگیز مباحث پیش کئے، اسی طرح ابن مسکویہ، رازی، عراقی،میرداماد مُلّا باقر،جلال الدین دُرانی رومی، شاہ ولی اللہ اور دیگر مسلم مفکرین نے اس حوالے سے خیال افروز نکات بیان کئے جو اس مسئلے کی مختلف جہتوں کی جانب اشارے کرتے ھبہیں، ضرورت ھے کہ کہ ان تمام افکار و مباحث کا جائزہ لے کر تجّسس اور تحقیق کو آگے بڑھایا جائے۔
۔۔۔۔ڈاکٹر عبدالخالق - دیباچہ
.
کتاب۔۔۔۔زماں و مکاں
از ڈاکٹر وحید عشرت
.
Zaman o Makan
Dr Wahid Ishrat

Recently Viewed Products

زمان و مکان | ڈاکٹر وحید عشرت

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart