FREE SHIPPING | On order over Rs. 1000 within Pakistan

Hazrat Usman Ghani | حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

In Stock Unavailable

sold in last hours

Regular price Rs.780.00 |  Save Rs.-780.00 (Liquid error (sections/product-template.liquid line 159): divided by 0% off)

-9

Spent Rs. more for free shipping

You have got FREE SHIPPING

ESTIMATED DELIVERY BETWEEN and .

PEOPLE LOOKING FOR THIS PRODUCT

PRODUCT DETAILS

سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شخصیت پر مایۂ ناز مصری سکالر محمد حسین ہیکل کی تحریر کردہ بہترین کتاب، نایاب تصاویر سے مزین ایڈیشن!
مترجم: پروفیسرحکیم مرزا صفدر بیگ
قیمت: 780 روپے!
-----------------------------------------------------------------------------------

حزیفہ بن الیمان، خلافتِ عثمانی کے دوسرے یا تیسرے سال آرمینیا اور آذربائیجان میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کر رہا تھا اور اس جنگ میں شامیوں کی ایک جماعت قرآن کو مقداد بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابوالدرداء کی قرات کے مطابق پڑھتی تھی اور عراقیوں کی ایک جماعت ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مطابق۔ اس وجہ سے ان کے درمیان اختلاف ہو گیا کہ یہاں تک کہ ایک شخص اپنے دوسرے ساتھ سے کہتا:
"میری قراْت تیری قراْت سے بہتر ہے۔"
یہ بات اس حد تک بڑھی کہ فتنے کا اندیشہ ہوا۔ حذیفہ فوراََ مدینہ پہنچا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی:
"اس امت کو ہلاکت سے بچا لو"
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:"یہ امت کس وجہ سے ہلاک ہو رہی ہے؟"
اس نے جواب دیا"کتاب اللہ کی وجہ سے، میں جنگ میں حاضر ہوا تھا اور میں کچھ عراقیوں، شامیوں اور حجازیوں کے ساتھ رہا ہوں، پھر ان کے اختلافِ قرات کا ذکر کیا جس کے متعلق بیان ہو چکا، پھر کہنے لگا ککہ مجھے خدشہ ہے کہ وہ بھی اپنی کتاب میں اسی طرح اختلاف کرنے لگیں گے جیسے یہود و نصاریٰ نے کیا تھا۔"
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطرہ محسوس کیا تو لوگوں کو اس بارے میں مشورہ کے لئے جمع کیا۔ انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے دریافت کی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،
"میری رائے یہ ہے کہ لوگ ایک قراْت پر متفق ہو جائیں۔ جب آج تم لوگ اختلاف کرتے ہو تو جو لوگ تمہارے بعد آئیں گے وہ تم سے زیادہ اختلاف کریں گے۔"
اہل الرائے نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کو قبول کر لیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف آدمی بھیجا کہ ان سے کہے کہ وہ مصحفِ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرے پاس بھیج دیں تا کہ اسے دیگر مصاحف میں لفظ بہ لفظ نقل کیا جائے۔ مصحفِ ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس تھا، پھر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپاس رہا اور پھر ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آ گیا۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زید بن انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصحف لکھنے کا حکم دیا اور یہ کہ سعید بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن الحارث ابن ہشام مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں املا کروائیں۔ جب انہوں نے قراْتِ واحدہ پہ اس کی کتابت مکمل کر لی تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ شامیوں، مصریوں، بصریوں، کوفیوں کے لئے ایک ایک نسخہ لکھو۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نسخہ مکہ بھیجا، ایک یمن میں اور ایک مدینہ میں رکھا۔
جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصاحف کو شہروں میں بھجوایا اور ان کی قرات کے مطابق پڑھنے کو واجب قرار دیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے علاوہ جو مصحف تھے ان کو جمع کرنے کا حکم دیا اور جلا دیا۔ اس بات پہ کچھ لوگوں نے اختلاف بھی کیا۔ لیکن حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قراَتِ واحدہ پر لوگوں کو جمع کرنے کے لئے جو کام کیا وہ عین حکمت ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مصاحف جلانے کے متعلق جب دریافت کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
"اگر وہ ایسا نہ کرتے تو میں ضرور کرتا۔"
اس کے باوجود بعض لوگوں نے مصاحف جلانے کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برائی بیان کرنے میں مبالغہ سے کام لیا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا:
"اے لوگو! حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بہت زیادہ مبالغہ سے بچو۔ کہتے ہو اس نے مصاحف کو جلا دیا ہے۔ خدا کی قسم! اس نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کے مشورے سے انہیں جلایا ہے اور اگر وہ کام مجھے سونپا جاتا جیسا کہ انہیں سونپا گیا تو میں بھی وہی کرتا جو انہوں نے کیا۔"

(اقتباس: حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ از محمد حسین ہیکل مترجم: پروفیسرحکیم مرزا صفدر بیگ)

Recently Viewed Products

Hazrat Usman Ghani | حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

Returns

There are a few important things to keep in mind when returning a product you have purchased from Dervish Online Store:

Please ensure that the item you are returning is repacked with the original invoice/receipt.

We will only exchange any product(s), if the product(s) received has any kind of defect or if the wrong product has been delivered to you. Contact us by emailing us images of the defective product at help@dervishonline.com or calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm) within 24 hours from the date you received your order.

Please note that the product must be unused with the price tag attached. Once our team has reviewed the defective product, an exchange will be offered for the same amount.


Order Cancellation
You may cancel your order any time before the order is processed by calling us at 0321-8925965 (Mon to Fri 11 am-4 pm and Sat 12 pm-3 pm).

Please note that the order can not be canceled once the order is dispatched, which is usually within a few hours of you placing the order. The Return and Exchange Policy will apply once the product is shipped.

Dervish Online Store may cancel orders for any reason. Common reasons may include: The item is out of stock, pricing errors, previous undelivered orders to the customer or if we are not able to get in touch with the customer using the information given which placing the order.


Refund Policy
You reserve the right to demand replacement/refund for incorrect or damaged item(s). If you choose a replacement, we will deliver such item(s) free of charge. However, if you choose to claim a refund, we will offer you a refund method and will refund the amount in question within 3-5 days of receiving the damaged/ incorrect order back.

What are you looking for?

Your cart