WOW0821240209BLCLJLLLML

My Cart
قصص الانبیاء | توراکینہ قاضی

قرآنِ مجید میں گذشتہ اقوام کے بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ اور ان کے بیان کامقصد درس وعبرت ہے۔ بیانِ واقعات کا انداز تفصیلی نہیں ہے، جہاں جس قدر کسی پہلو کو نمایاں کرنا مقصود تھا اُسے کر دیا گیا۔ اور یوں ایک ہی واقعہ کئی مقامات پر ذکر ہوا۔
مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اور دیگر علماء نے اس موضوع پر مستقل کتب لکھ کر دیگر مصادر و مآخذ سے استفادہ کرکے تفصیل فراہم کی ہے۔ عربی زبان میں اس موضوع پر بہت سی علمی و تحقیقی کتب موجود ہیں۔ کہانی کے رنگ میں بہت سے لوگوں نے لکھا ہے۔ اُردو میں بھی ترجمہ شدہ اور مستقل دونوں طرح کی کتب اس موضوع پر موجود ہیں۔ معروف مصنفہ محترمہ توراکینہ قاضی نے اس روایتی اسلوبِ نگارش سے ہٹ کر قصص الانبیاؑ ء کو مرتب کیا ہے۔ تاریخ کوجس طرح نسیم حجازی صاحب نے ناول کا پیرہن دیا اسی طرح محترمہ توراکینہ قاضی نے انبیاؑ ء کے قصوں کوحکایت کے انداز میں بیان کیا ہے۔ اگرچہ اس موضوع کی بنیاد قرآن ہی ہے مگراس کے بعض متعلقات کتب احادیث میں بھی موجود ہیں۔ علما نے دیگر مذاہب کے مصادر سے ان قصص کی تفصیل میں استفادہ کیا ہے۔ اس لیے جہاں تک قرآن کے بیان کا تعلق ہے حتمیت اُسی کو حاصل ہے مگر صحیح جانچ پرکھ اور روایت و درایت کے اصولوں کی روشنی میں محققین نے اپنے اپنے زاویہ ہائے نظر کو راجح قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ محترمہ توراکینہ قاضی نے بھی یہی طرزِ تحقیق اختیار کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں: ’’یہ [بات] یقینی ہے کہ اکثر انبیاؑ ء اور اقوام کے حالات کے بارے میں قارئین کی طرف سے اعتراضات کیے جائیں گے، لیکن میں نے جو کچھ لکھا ہے خوب چھان پھٹک کر، گہری تحقیق و جستجو کے بعد ہی لکھا ہے۔ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں گھڑی۔‘‘
بعض واقعات کے ضمن میں مصنفہ نے جس زاویۂ نظر کو اختیار کیا ہے اُس سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہ تاریخی تحقیق کے زاویے ہیں ان میں ترجیح ایمان اور کفر کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ اصل بات واقعے کا بیان ہوتا ہے کہ اُسے کس اسلوب اور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ کتاب غالباً اُردو زبان میں اس موضوع کی پہلی کتاب ہے۔
پہلی جلد کا آغاز تذکرۂ حضرت آدمu بعنوان ’’لغزش‘‘ سے ہوتا ہے۔ پھر ’’پہلا خون‘‘ کے عنوان سے ہابیل و قابیل کا تذکرہ ہے۔ بعد ازاں حضرت نوحؑ ، حضرت ہودؑ ، حضرت صالحؑ ، حضرت ابراہیمؑ ، حضرت اسماعیلؑ ، حضرت لوطؑ ، حضرت یوسفؑ ، حضرت ایوبؑ ، حضرت شعیبؑ ، حضرت موسیٰؑ کے تذکرے اور ان کی اقوام کے واقعات درج ہیں۔ انبیاء oکے علاوہ حضرت خضرؑ ، حضرت عزیرؑ اور قارون و شداد اور بلعام بن باعورا کے تذکرے موجود ہیں۔
اسی طرح جلد دوم میں حضرت داؤدؑ ، حضرت سلیمانؑ ، حضرت الیاسؑ ، حضرت یونسؑ ، حضرت اشعیاؑ ، حضرت زکریاؑ ، حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کا ذکر خیر ہے۔ ان انبیاءu کے ساتھ دیگر کرداروں میں طالوت و جالوت، ذوالکفل، اصحابِ سبت، ذوالقرنین، یاجوج ماجوج، اصحابِ الرس، اصحاب القریہ، دو عبرت انگیز قصے، عذاب زدہ بستی، اصحابِ کہف، قومِ تبع، اصحاب الاخدود، اصحاب الفیل، ابولہب لعین، اور ہاروت و ماروت کے واقعات کو بیان کیا گیاہے۔
مصنفہ نے ان تذکروں کے عنوانات عمومی طور پر قرآنِ کریم کے اُن الفاظ کو بنایا ہے جن الفاظ میں ان واقعات کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ مثلاً صاحب الحوت (تذکرہ حضرت یونسu) فتنہ داؤدؑ (تذکرہ حضرت داؤدؑ )، اسفل سافلین (تذکرۂ قومِ لوطؑ )۔
دو جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں قرآنِ مجید کے بیان کردہ واقعاتِ انبیاؑ ء کے علاوہ دیگر بہت سے کرداروں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ یوں قرآنِ مجید کے بیان کردہ تقریباً تمام ہی کرداروں کا تذکرہ یکجا ہو گیا ہے۔ اسلوب نگارش چونکہ حکایت اور کہانی کا تھا اس لیے زبان و بیان کی مشکلات اور تحقیق و تفتیش کی اصطلاحات سے کتاب کا دامن بوجھل نہیں ہوا۔
مصنفہ نے جس توجہ، محنت اور احتیاط سے ان واقعات کو کہانی کا رنگ دیا ہے وہ قابل قدر اور لائق تحسین ہے۔ قرآنی قصص کو نوخیز ذہنوں کے لیے دلچسپ بنانے کی غرض سے جس طرزِ تحریر کو اختیار کیا گیا ہے اُس کا اثر پڑھنے والا خود محسوس کرتا ہے۔ بہت سلیس اور سادہ زبان میں لکھا گیا یہ سلسلہ واقعات بچوں اور نوجوانوں کے علاوہ عام پڑھنے والوں کو بھی بہت حد تک درست معلومات فراہم کرتا ہے۔
ناشر نے اس کتاب کو رنگین تصاویر سے بھی آراستہ کیا ہے اور بہت عمدہ کاغذ، اچھی طباعت اور مضبوط جلدبندی سے کتاب کی قدروقیمت بڑھ گئی ہے۔

Older Post Newer Post


0 comments


Leave a comment

Added to cart!